اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اگر کوئی شخص صرف انہیں گننا ہی چاہے تو گن نہیں سکتا ۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ”اگر تم اﷲ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکو گے “(ابراہیم :34) ۔دوسری جگہ فرمان الہی ہے : ” پس تم ( اے انسانو اور جنّو ! ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاو¿ گے“ ۔ ( رحمن: 16) ۔ رب کی نعمتیں شکر ادا کرنے سے بڑھتی بھی ہیں اور ہمیشہ قائم بھی رہتی ہیں جبکہ ناشکری کرنے سے کم ہوجاتی ہیں بلکہ ختم ہوجاتی ہیں ۔ جیسا کہ رب العالمین کا فرمان ہے : ” اگر تم نے شکر بجا لایا تو میں تمہیں زیادہ دوں گا ، اور اگر تم نا شکری کرو گے تو یاد رکھو کہ بے شک میرا عذاب سخت ہوتا ہے “۔( ابراہیم :7)حضرت امام سفیان ثوری اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ شکر سے وہ تمہیں مزید طاقت اور بندگی کی توفیق دے گا اور اگر ناشکری کروگے تو وہ نعمتیں تم سے چھین لے گا اور سخت عذاب میں مبتلا کردے گا ۔ اﷲ رب العالمین نے قرآن مجید میں کئی قوموں اور اشخاص کی نا شکری کے واقعات بیان کرکے ان کی بربادی کی داستانیں سنائی ہیں، تاکہ دنیائے انسانیت ان واقعات سے عبرت حاصل کرے ، انہی میں دو دوستوں کا واقعہ ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے سورہ کہف میں بیان کیا ہے ۔ فرمان الٰہی ہے : ایک قرآنی واقعہ ”( اے محمدا ! ) آپ ان کے سامنے دو آدمی کی مثال پیش کیجئے ، دونوں میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے ، اور ان دونوں باغوں کو کھجوروں کے درختوں سے گھیر دیا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی رکھ دی تھی ۔ دونوں باغوں نے پھل دیئے اور دونوں باغوں نے پھل دینے میں کمی نہیں کی ، اور دونوں باغوں کے درمیان ہم نے ایک نہر بھی جاری کردی تھی اور اس کے آس پاس دوسرے میوہ جات بھی ہوتے تھے ۔ تو اس نے اپنے ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے مال میں زیادہ ہوں اور جاہ وحشم کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ عزت والا ہوں۔“ ( کہف :32۔34) مال اﷲ تعالیٰ کی ایک اہم نعمت ہے ، جب کسی بندہ¿ مومن کو یہ نعمت عطاہوتی ہے تو وہ اس موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی آخرت آباد کرلیتا ہے ۔ اسی لیے رسول اکرم انے اس شخص کو قابل رشک قرار دیا جسے اﷲ نے مال عطا کیا اور وہ اس کی راہ میں دن رات بے دریغ خرچ کرتا رہتا ہے ۔( متفق علیہ ) لیکن یہی مال جب کسی فاسق وفاجر شخص کے پاس جمع ہوجاتا ہے تو اس سے اس کے فسق وفجور اور تکبر وغرور میں اور اضافہ ہوجاتا ہے ۔اورتجربہ بھی یہی کہتاہے کہ مال ایسی شئی ہے جو کمزور کو طاقتور ، مجبور کو مختار ، محکوم کو حاکم ، اور کبھی کبھی مظلوم کو ظالم بنادیتی ہے ، اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ”بے شک آدمی سرکش بن جاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ وہ دولت مند ہوگیا “۔ ( علق :7) یہی مال ودولت اور اقتدار جب فرعون کو حاصل ہوتا ہے تو وہ اپنی خدائی کا اعلان کرتے ہوئے نعرہ لگاتا ہے کہ : ” میںہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ،،( نازعات : ۴۲)اور یہی دولت کا نشہ جب نمرود پر چڑھتا ہے تو اعلان کرتا ہے : ”میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں “( بقرہ :258)اور یہی دولت کے خزانے جب قارون کے گھر میں اپنے ڈیرے ڈالتے ہیں تو بدمست ہوکر پکار اٹھتا ہے : ”یہ مال وجائیداد مجھے ( رب کی مہربانی سے نہیں ) اپنے علم اور صلاحیت سے ملی ہے “۔ ( قصص :78) جس وقت انسان کے پاس مال جمع ہوجاتا ہے ، اس کے پاس چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہوجاتی ہے ، جو اس کے ہر عیب کو ہنر بنا کر اس کے سامنے پیش کرتی ہے ۔ اور سچ ہے کہ :