جیو نیوز - کراچی…آج کل مختلف طبقات اور خاص طور پر اے آر وائی اور عمران خان کی جانب سے جیو پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 11اور 12مئی 2013ء کو وہ نتائج جیو ہی نہیں، دیگر چینلز بھی چلا رہے تھے جن کے مطابق مسلم لیگ ن آگے آگے تھی۔ اگر صرف ان حلقوں کی بات کی جائے جن کے نتائج پر عمران خان کو اعتراض ہے تو این اے 118میں ن لیگ کے ملک ریاض اور تحریک انصاف کے حامد زمان میں مقابلہ تھا۔ دنیا ٹی وی نے رات آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر سب سے پہلے یہ بتایا کہ اس حلقے میں ن لیگ کے امیدوار ملک ریاض آگے ہیں۔ سماء ٹی وی نے رات 11بج کر40 منٹ پر جب کہ ایکسپریس نیوز نے رات 12بج کر 22منٹ پر ملک ریاض کو سب سے آگے دکھایا۔ جیو نیوز نے ملک ریاض کی برتری کی خبر رات 12 بج کر 49 منٹ پر دی۔ این اے 122 سے عمران خان الیکشن لڑ رہے تھے، جیو نیوز نے سب سے پہلے شام چھ بج کر 54 منٹ پر عمران خان کی برتری کی خبر دی۔ اے آر وائی، دنیا، سما، ایکسپریس، سب نے یہ خبر جیو نیوز کے بعد دی۔ اس حلقے سے بعد میں ایاز صادق کامیاب ہوئے اور جیو نیوز نے اس نتیجے کا اعلان رات 2 بج کر 48 منٹ پر کیا۔ اس سے بہت پہلے اے آر وائی اس حلقے سے عمران خان کے بجائے ایاز صادق کو کامیاب قرار دے چکا تھا۔ 3 بج کر 27 منٹ پر ایکسپریس اور تین بج کر 28 منٹ پر سما نے بھی ایاز صادق کو فاتح قرار دیا۔ این اے 117 نارووال کا بھی جیو نیوز، سما، ایکسپریس، اے آر وائی اور دنیا ٹی وی نے ایک جیسا نتیجہ دیا۔ این اے 125 میں خواجہ سعد رفیق اور حامد خان میں مقابلہ تھا۔ یہاں دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے بعد جیو نیوز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نشست کے نتیجے کا اعلان روک دیا لیکن اے آر وائی نے رات 2 بج کر 49 منٹ پر خواجہ سعد رفیق کو فاتح قرار دیدیا۔ جیو نیوز نے اس نشست کا نتیجہ اگلے روز سہ پہر 3 بج کر 25 منٹ پر اس وقت چلایا جب الیکشن کمیشن نے اس کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کر دیا تھا۔ ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ جیو نیوز نے انتخابی نتائج پوری ذمہ داری سے عوام تک پہنچائے لیکن اب ہمارے حاسدین کی ڈھٹائی بھی ملاحظہ کر لیں۔جیو نیوز اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہم مستقبل میں بھی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کریں گے۔